نئی دہلی، 29؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )لوک سبھا میں آج بی جے پی کے ایک رکن نے ہندوستان میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کو پاکستان کی جانب سے حمایت یافتہ بتاتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک کے ساتھ بات چیت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کو اسی کی زبان میں جواب دینے کے طریقے تلاش کرنے کے بارے میں غور وفکر کیا جانا چاہیے۔وقفہ صفر میں آر کے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ دنوں کشمیر میں ایک زندہ دہشت گرد کی گرفتاری کی خبریں آئی تھیں ، جس سے پوچھ گچھ میں معلوم ہوا ہے کہ وہ پاکستان سے ٹریننگ لے کر وہاں کی فوج کے توسط سے یہاں آیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے بھی پاکستانی دہشت گرد پکڑے جاتے رہے ہیں اور ہندوستان میں پاکستان کی جانب سے حمایت یافتہ دہشت گرد انہ حملے ہوتے رہے ہیں۔سنگھ نے پٹھان کوٹ اور کشمیر میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔جب بھی بات چیت ہوتی ہے تو اس کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں کے معاملات سامنے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سختی سے جواب دینے کے طریقوں پر غور کرنا ہوگاحکمران پارٹی کے ہی کریٹ سولنکی نے گجرات میں پاکستان سے متصل 340کلومیٹر سرحد پر نئے سرے سے باڑ لگانے کا مطالبہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ باڑ کے تار کئی جگہ خستہ حال ہو گئے ہیں اور ان راستوں سے پاکستانی درانداز ہندوستانی سرحد میں داخل ہوجا تے ہیں۔سولنکی نے کہا کہ اس کی وجہ سے منشیات وغیرہ کی اسمگلنگ بھی ہوتی ہے۔انہوں نے نئی باڑ لگانے کے ساتھ سرحدی علاقوں میں خاص طور پر رات کے وقت نگرانی رکھنے کے لیے ہائی ڈیفینشن سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگانے کا مطالبہ کیا۔نامزد رکن پروفیسر رچرڈ ہے نے آئی ایس آئی ایس دہشت گرد گروپ کی طرف سے ہندوستانی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو ایسے نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیم سے دور رکھنے کے لیے انہیں سمجھانے اور سائبر علاقے پر نگرانی رکھنے کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہیے تاکہ ان نوجوانوں کا رجحان آئی ایس آئی ایس کی طرف نہ ہو ۔